DCSIMG
Skip Global Navigation to Main Content
پمفلٹ

خواب زندہ ہے، کام جاری ہے

15 جنوری 2015

دائیں طرف سے پمفلٹ ڈاؤن لوڈ کریں۔

یہ وہ تقریر تھی جسے دنیا فراموش نہیں کر سکتی۔ 1963ء میں 28 اگست کو اندازاً 250،000 لوگ مارچ کرتے ہوئے واشنگٹن میں لنکن میموریل پہنچے جہاں انہوں نے مارٹن لو تھر کنگ جو نئیر کی وہ تقریر سنی، جس کی گونج آنے والے زمانوں میں سنی جانی تھی۔

اُس تقریر نے جو بعد میں "میرا ایک خواب ہے" کے عنوان سے مشہور ہوئی، کنگ نے امریکہ کی شہری حقوق کی تحریک کو ایک جذباتی آواز فراہم کی ــــ یعنی جلد کے رنگ سے قطع نظر، تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق۔

امریکی تاریخ میں شہری حقوق کے ایک سب سے بڑے مظاہرے میں کی جانے والی اِس تقریر کے بارے میں بعض مورخین کا کہنا ہے کہ کنگ کی یہ تقریر اُن نادر لمحات میں سے ایک تھی جنہوں نے ــــ امریکی قوانین اورامریکیوں کی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی کی راہ ہموار کرتے ہوئے، اس ملک کو بدل کر رکھ دیا۔

آنجہانی ڈوروتھی ہائیٹ نے جو اُس وقت نیشنل کونسل آف نیگرو ویمن (NCNW) کی اعزازی صدر تھیں، 2005ء میں لکھا، "وہ ایک بہت پر سکون دن تھا۔ مال کا علاقہ سفید فام چہروں کے ساتھ ساتھ سیاہ فام چہروں کے ایک سمندر میں لِپٹا ہوا تھا۔ "ہائیٹ نے جو اس مارچ کے منتظمین میں شامل تھیں اور پلیٹ فارم پر کنگ کے پیچھے بیٹھی ہوئی تھیں، لکھا، "میرے خیال میں یہ نہ صرف امریکہ کی شہری حقوق کی تاریخ بلکہ امریکہ کی تاریخ میں بھی ایک فیصلہ کن لمحہ تھا۔ جس کے نتیجے میں رنگ دار لوگوں کے لیے مساوات، آزادی اور مزید ملازمتوں کی جانب آگے بڑھنے کا ایک نیا عزمِ صمیم پیدا ہوا"

ہائیٹ کے مطابق، "مارچ اور تقریر کی اصل اہمیت یہ تھی کہ اُس نے رویّوں کو تبدیل کردیا۔ مارچ کے بعد نسلی امتیاز کے خلاف نیک نیتی پر مبنی برہمی کا اظہار بہت عام ہو گیا۔ اس نے امیدوں اور امکانی کارناموں سے بھرپور دور کی جانب رہنمائی کی۔ آپ اسے محسوس کر سکتے تھے۔"

مارچ کے بعد ایک سال سے بھی کم عرصے میں صدر لِنڈن جانسن نے 1964ء کے شہری حقوق کے قانون پر دستخط کر کے انہیں قانونی حیثیت دے دی۔ اس قانون کے تحت ہوٹلوں اور ریستورانوں جیسی عوامی جگہوں پر امتیازی سلوک پر پابندی عائد کردی گئی اور ملازمتوں میں بھی امتیازی سلوک کی ممانعت کردی گئی۔ اس سے اگلے سال، ووٹنگ کے حقوق کے قانون کی منظوری نے افریقی نژاد امریکیوں کے لیے اس بات کو یقینی بنادیا کہ وہ اپنے حقِ رائے دہی کو آزادی کے ساتھ استعمال کرسکیں۔

1968ء میں فئیر ہاؤسنگ ایکٹ (مساوایانہ رہائشی قانون) کا مقصد، مکانات کی خریداری اور کرائے پر لینے یا دینے میں امتیازی سلوک کو ختم کرنا تھا۔ اس قانون سازی کے ساتھ ساتھ مثبت اقدام جیسی وہ پالیسیاں بھی اختیار کی گئیں جن کا مقصد امتیازی سلوک کے ورثے کا توڑ نکالنا تھا۔

بعض امریکیوں کے لیے یہ وسیع قانونی تبدیلیاں، اچانک تھیں اور امریکی کمیونٹیاں ان کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کی تگ و دو میں لگ گئیں۔ نیوزویک کے 1963ء کے رائے عامہ کے ایک جائزے میں 74 فیصد سفید فام لوگوں نے کہا کہ نسلی یکجائی کو "بہت تیزی سے" سے عمل میں لایا جارہا ہے۔ آج کے بدلے ہوئے روّیوں میں ایسا نقطہِ نظر پریشان کُن دکھائی دیتا ہے۔ 2000ء میں نیو یارک ٹائمز کے رائے عامہ کے ایک جائزے میں بتایا گیا کہ 93 فیصد سفید فام لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ اہلیت کے حامل سیاہ فام صدارتی امیدوار کو ووٹ دیں گے۔ 60 فیصد سے زیادہ نے مختلف نسلوں کے افراد کے درمیان شادی کو پسند کیا۔ اور 80 فیصد نے کہا کہ انہیں اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ ان کے ہمسائے سفید فام ہیں یا سیاہ فام۔

واشنگٹن پر مارچ کرنے کے موقعے پر کنگ نے جس خواب کا اظہار کیا تھا، وہ اب امریکی سیاست کا مرکزی دھارا ہے۔ ان کا یومِ پیدائش ایک قومی تعطیل کا وہ دن ہے جب امریکی اُن کے تصورات اور ان کی یاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ ان کے ورثے کو ملک کے دارالحکومت میں ابرہام لنکن، تھامس جیفرسن اور فرینکلن ڈیلانو روزویلٹ کی یاد گاروں کے قریب ایک یادگار کی صورت میں محفوظ کیا گیا ہے۔

نسلی مساوات اور انصاف کی خاطر جدوجہد کے لیے کنگ کا خواب امریکہ کی سرحدوں سے آگے نکل گیا ۔ انہوں نے دنیا کا سفر کرتے ہوئے اپنی "محبوب کمیونٹی" کا تصّور پیش کیا اور نسل پرستی کو ایک عالمی بُرائی سے تعبیر کیا۔ انہیں 1964ء میں امن کے نوبیل انعام سے نوازا گیا۔

اپنی 1967ء کی کتاب Where Do We Go From Here: Chaos or Cmmunity میں کنگ نے کہا، "ہمارے دور کے اخلاقی تقاضوں میں ایک یہ چیلنج بھی ہے کہ ہم نسل پرستی کے آخری آثارات کو ختم کرنے کے لیے ناقابل تسخیر عزم کے ساتھ دنیا بھر میں کام کریں ـ ۔ ـ نسل پرستی اب محض امریکی مسئلہ نہیں۔ اس کی ظالمانہ گرفت جغرافیائی سرحدوں سے ماوراء ہے۔"

حتّیٰ کہ اس دن بھی جب انہوں نے "میرا ایک خواب ہے" نامی تقریر کی، جب وہ خاص طور پر امریکیوں سے خطاب کر رہے تھے تو مارٹن لُوتھر کنگ کو مارچ اور اِس کے پیغام کے دنیا بھر پر مرتب ہونے والے اثرات کا احساس تھا۔ ایسے وقت میں جبکہ ٹیلی وژن پر اس غیر معمولی اجتماع کے مناظر کو سرحدوں اور سمندروں کے پار دکھایا جارہا تھا، انہوں نے کہا، "ہر اُس شخص کے لیے جو انسان کی خود اپنے آپ کو بہتر بنانے کی صلاحیتوں پر یقین رکھتا ہے، یہ ایک حوصلہ مندی اور نسل انسانی کے مستقبل پر اعتماد کا لمحہ ہے۔"

28 اگست 1963ء کے واقعات کی آفاقی اہمیت کو ہائیٹ نے ایسے اُجاگر کیا، "ان پچھلے 40 برسوں میں جب کبھی میں دنیا میں کسی جگہ گئی، میرے لیے یہ چیز ناقابل یقین تھی کہ لوگوں کو شہری حقوق کی تحریک اور ڈاکٹر کنگ کے بارے میں کتنا زیادہ علم ہے ــــــ اکثر خصوصی تفصیلات کے ساتھ ۔ اس دن دنیا ہمیں دیکھ رہی تھی۔" ان کا کہنا ہے، "مارچ کو امریکہ کے ساتھ ساتھ دنیا نے بھی شدّت سے محسوس کیا۔"