DCSIMG
Skip Global Navigation to Main Content
مختصرا

اخبار پر حملے کے بعد امریکہ، فرانس کے غم میں شریک ہے

08 جنوری 2015

Women holding English and French signs (AP Images)

امریکہ کے طول و عرض میں لوگوں نے جمع ہو کو پیرس کے ایک اخبار کے دفاتر پر کیے جانے والے حملے پر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔

7 جنوری کو ہفتہ وار اخبار Charlie Hebdo (چارلی ہیبڈو) پر ایک حملے میں ہلاک ہونے والوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے لاس اینجلس کی فرانسیسی۔امریکی کمیونٹی کے ارکان نے ایک اجتماع میں کتبے اُٹھائے ہوئے ہیں، جن پر لکھا تھا، "میں چارلی ہوں" اور "Je Suis Charlie" ۔

پیرس میں اس حملے کے بعد جس میں کم سے کم 12 افراد ہلاک ہوئے تھے، امریکہ کے طول و عرض میں آزادئی اظہار کی حمایت میں مظاہرے ہوئے، جبکہ امریکی لیڈروں نے دہشت گردی کی اس کارروائی کی مذمت کی اور فرانس سے ہمدردی اور حمایت کا اظہار کیا۔

صدر اوباما نے کہا، "میں پیرس میں رسالے چارلی ہیبڈو کے دفاتر میں اس ہولناک فائرنگ کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ اس مشکل وقت میں ہمارا دھیان اور دعائیں دہشت گردوں کے اس حملے کے متاثرین اور فرانس کے لوگوں کےساتھ ہیں۔"

اوباما نے حملے کے دن ہی فرانس کے صدر فرانسوا اولاند سے بات کی تھی اور کہا تھا کہ انہوں نے اپنی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے تک پہنچانے کے لیے فرانس کو ہر قسم کی مدد فراہم کرے۔

وزیر خارجہ جان کیری نے 7 جنوری کو کہا، "فرانس اور امریکہ ان لوگوں کے ساتھ وابستگی کا مشترکہ عزم رکھتے ہیں جو آزادی کے علمبردار کے طور پر قلم سے کام لیتے ہیں۔ اظہار کی آزادی اور آزاد پریس، بنیادی اقدار ہیں، یہ وہ آفاقی قدریں ہیں، وہ اصول ہیں جن پر حملہ تو کیا جا سکتا ہے لیکن انہیں کبھی بھی ختم نہیں کیا جا سکتا، اس لیے کہ دنیا بھر میں بہادر اور مہذب لوگ کبھی بھی ان دھمکیوں اور اُس دہشت کے سامنے نہیں جھکیں گے، جو اُن قدروں کو تباہ کرنے کے درپے (لوگ) استعمال کرتے ہیں۔"

فرانس نے 8 جنوری کو سوگ کا دن قراردیا جبکہ اسی دوران دو اصل مشتبہ افراد کی تلاش جاری رہی۔